حکایت بچه‌ی راست‌گو

فارسی اردو
روزِ عید، پدرِ محمود قلم‌تراشی به او بخشید. عید کے دن محمود کے والد نے اُسے ایک قلمتراش (چاقو) دیا۔
محمود از این بخشش خیلی خوشحال بود و خواست قلم‌تراش را امتحان کند. محمود اس تحفے سے بہت خوش ہوا اور چاہا کہ قلمتراش کو آزمائے۔
رو به درخت‌هایِ باغچه آورد و چاقو را به هر درختی می‌زد.

وہ باغچے کے درختوں کی طرف گیا اور چاقو ہر درخت پر مارتا تھا۔

اتفاقاً درختِ ناشپاتی را که پدرش کاشته بود و خیلی عزیز می‌داشت، در امتحانِ قلم‌تراش خراشیده و زخمدار کرد. اتفاقاً اُس نے ناشپاتی کے اُس درخت پر، جو اُس کے باپ نے لگایا تھا اور بہت عزیز رکھتا تھا، قلمتراش آزماتے ہوئے خراش ڈال دی اور زخمی کر دیا۔
روزِ دیگر پدرِ محمود در باغچه گردش می‌کرد. اگلے دن محمود کا باپ باغچے میں چہل قدمی کر رہا تھا۔
چون به درختِ عزیزِ خود رسید و آن را زخمدار دید، بسیار غمگین و متغیر شد و گفت: جب وہ اپنے عزیز درخت کے پاس پہنچا اور اُسے زخمی دیکھا، تو بہت غمگین اور پریشان ہوا اور کہا:
«کیست که تیغ به درختِ من کشید تا او را تنبیه کنم؟» کون ہے جس نے میرے درخت پر چھری چلائی ہے تاکہ میں اُسے سزا دوں؟
محمود گفت: «ای پدر! این فعل از من سر زد.» محمود نے کہا: “اے پدر! یہ کام مجھ سے سرزد ہوا ہے۔”
پدر، که اقرارِ فرزند را به خطایِ خود شنید، از راست‌گوییِ او در عجب شد و گفت: باپ نے، جب بیٹے کا اپنے قصور کا اقرار سنا، تو اُس کی سچائی پر حیران ہوا اور کہا:
«ای فرزند! اگرچه این درخت را بسیار دوست می‌دارم و باید تو را تنبیه کنم، اما راست‌گوییِ تو شفاعت کرد و گناهت را بخشیدم. و همواره در خاطرت دار که نجات در صدق است.» اے بیٹے! اگرچہ میں اس درخت سے بہت محبت کرتا ہوں اور تجھے سزا دینا چاہیے، مگر تیری سچائی نے تیری شفاعت کی، اور میں نے تیرا گناہ بخش دیا۔ اور ہمیشہ اپنے دل میں یاد رکھنا کہ نجات سچائی میں ہے۔
راستی موجبِ رضایِ خداست سچائی خدا کی رضا کا باعث ہے
کس ندیدم که گم شد از رهِ راست میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو سیدھی راہ (سچائی) پر چل کر بھٹک گیا ہو

Comments are closed.